2014 اگست 1

انقلاب،سنت رسولﷺاور ڈاکٹر طاہر القادری

Inqlab , Tahir ul Qadri, Green Revolution  آج کل ہرطرف انقلاب انقلاب کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ، آخر انقلاب ہے کیا ؟۔ انقلاب کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ "یہ نظام حکومت میں بنیادی تبدیلی لانے کی کوشش ہے" لیکن کامیاب انقلاب بنیادی تبدیلی لانے کی کوشش سے بڑھ کر ہے۔ وہ عملاً سارے نظام کو بدل ڈالتا ہے۔ یہ طاقت کے ذریعے اور تیزی سے اقتدار کے بنیادی ڈھانچہ اور سماج میں فوائد و وسائل کی تقسیم   کو   کو بدل دیتا ہے۔ مثلا تحریک اصلاحات، Reformation، انقلاب انگلستان، 1788، انقلاب امریکہ، 1776، انقلاب فرانس،، 1689، بالشویک انقلاب روس، 1917، انقلاب چین، 1949، انقلاب مصر 1950، انقلاب کیوبا، 1957، اور انقلاب عراق 1958، کے نتیجہ میں نہ صرف متعلقہ ملکوں کا نظام حکومت بدل گیا بلکہ دور رس سماجی، اقتصادی اور تہذیبی تبدیلیاں بھی واقع ہوئیں۔
 انسانی تاریخ میں متعدد انقلابات پیش آئے ہیں۔ وہ طریقۂ کار ، مدّت ، اور ترقی پسند نظریاتی اصول کے معاملے میں بہت مختلف ہیں۔ ان کے نتائج کی وجہ سے ثقافت ، معیشت اور سماجی سیاسی اداروں میں ترقیاتی تبدیلیاں ہوئیں
ہر انقلاب کے پسِ پشت کچھ عوامل کارفرما ہوتے ہیں جو عملی انقلاب کے رونما ہونے سے پہلے انقلابی گروہ یا طبقہ یا پارٹی کو اس کے لیے تیار کرتے ہیں۔پاکستا ن میں انقلاب کا نعرہ بلند کرنے والی ڈاکٹر طاہر القادری کی ذات اور جماعت ہے،ڈاکٹر صاحب کی پہچان ایک مفسر، ایک محدث ،ایک اسلامی سکالر کی ہےاس کے علاوہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ قانون دان بھی ہیں اور پنجاب یونیورسٹی میں قانون کے استاد بھی رہے ہیں۔ آج کل ان کے خلاف جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا اس کی حقیت کیا ہے ، کوئی کہہ  رہا ہے کہ یہ انقلاب نہیں بلکہ انتشار ہے، کوئی کہتا ہے جمہوریت ڈی ریل ہو جائے  گی۔کوئی کہتا ہے یہ انقلاب نہیں بغاوت ہے،  کوئی کہتا ہے کہ وہ ایک اسلامی سکالر ہیں وہ لوگوں کو  اسں طرح سے  اکسا کر اسلام کی تعلیمات سے روگردانی کر رہے ہیں۔  ڈاکٹر طاہرالقادری  پوری دنیا میں اسلای سکالر کے نام سے جانے اور پہہچانے جاتے ہیں  ، اور ایک مذہبی سکالر کے طورپر اپنا ایک الگ تشخص رکھتے ہیں، نبی احمد مجتبی حضرت محمد مصطفی ؐ نے فرمایا مفہوم حدیث ''علماء میرے دین کے وارث ہیں''  ڈاکٹر طاہر القادری ایک مذہی عالم ہیں کیا ان کا انقلاب کا نعرہ سنت رسول کے عین مطابق ہے یا نہیں؟ کیوں کہ جب ڈاکٹر صاحب انقلاب کی بات کرتے ہیں ، تو ان کے اس عمل کو پیغمر انقلابؐ کےانقلاب کے پیرائے میں دیکھا جائے گا کیا یہ سنت رسول کے مطابق ہے یا نہیں؟
  انقلاب اور سنتِ رسول ﷺ
وہ توچالیس سال صادق و امین کے نام سے جانے جاتے تھے جب تک ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی تھی۔ آواز اٹھانے کی دیر تھی کہ لوگ دیوانہ بھی کہنے لگے، کوئی بولا کہ جادو گر ہیں، اور کوئی بولا کہ پیسے اور اقتدار کے لیئے ایسا کر رہے ہیں اور کوئی یہ کہتا ہوا نظر آیا کہ شہرت کی خاطر کر رہے ہیں۔آپ کا منشور توحید کے ساتھ ساتھ سب کی برابری اور سب کے حقوق کی پاسبانی تھا۔ غریب طبقہ نے حمایت شروع کی کہ انقلاب کی ضرورت مکہ کر سرداروں کو کہاں تھی !
اس انقلاب کے راستے میں سب سے پہلا خون عورت کا بہا۔ تیرہ سال آپ ﷺ صبر کے ساتھ برداشت کرتے رہے اور ان سب مظالم کے بعد بھی پر امن رہے یہاں تک کہ آپ کے شہر والوں نے آپ کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
کئی سال مدینہ پاک میں آپ ﷺ اپنے اصحاب کی تربیت کرتے رہے۔ جنگیں بھی ہوئیں اوربے شمار قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا۔ وہ احزاب میں تو آپ کے شہر مدینہ پر بھی حملہ آور ہوگئے۔کئی معاہدے بھی ہوئے اور کفار کی طرف سے خلاف ورزیاں بھی۔ان سب مصیبتوں کے بعد آخر کار آپ ﷺ اپنے شہر میں ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔وہ تو تمام جہانوں کے مالک کے محبوب ہیں۔ چاہتے تو ایک دعا سے معجزانہ طور پر سب کو مسلمان کر لیتے اور بغیر کسی قربانی کے ایک اشارے پر مکہ بھی فتح ہو کر قدموں میں گِھر جاتا۔ مگر آپ نے ایک عام انسان کا راستہ اپنایا اور اپنی پوری امت کو تعلیم دی کہ انقلاب کیسے آتے ہیں۔۔۔
   ڈاکٹر صاحب ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں،  ڈاکٹر صاحب نظام تبدیل کرنا چاہتے ہیں   ڈاکٹر صاحب کی  خواہش ہے کہ پاکستان میں ماں، بہن، بیٹی کی عزت محفوظ ہو جائے،    ڈاکٹر صاحب چاہتے ہيں کہ یہاں دس سال کے معصوم بچوں کے بازو کٹنے بند ہو جائيں،  ڈاکٹر صاحب چاہتے ہیں کہ یہاں ایم پی اے تھانے پر حملہ کرے تو    ڈاکٹر صاحب اس پر قانون لاگو کروانا چاہتے ہیں،  ڈاکٹر صاحب صبح و شام پاکستان کی بیٹیوں بہنوں کی لٹتی ہوئي عزتیں بچانے کے لئیے اس نظام کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب یہ سب آپ چاہتے ہیں لیکن یہاں نوجوان، قوم کب چاہتی ہے کہ ان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہو جائيں۔ ایک اسلامی ملک میں بہنوں کی عزتیں تار تار ہوتی ہیں لیکن ہم بیٹھ کر مسواک کی لمبائي پر بحث کرتے ہیں، کیونکہ مسواک کرنا سنت ہے لیکن شائد بہن بیٹی کی عزت بچانا سنت نہيں ۔۔۔۔۔اسلامی ملک میں پچاس فیصد سے زائد لوگ رات کو بھوکے سوتے ہیں، لیکن ہميں اس سے کیا ہم تو سنت کے پیروکار ہیں، ہم تبلیغ کے پیروکار ہیں، ہم عاشق رسول ہیں، ہمیں عشق رسول میں رونا تو آتا ہے لیکن رسول اللہ کی امت کی بہنوں کی عزت لوٹے یا بوڑھے بھوکے سو جائيں، باپ کے سامنے اس کی بیٹی کو اغواء کر کے اپنی ہوس کا نشانہ بنا دیا جائے، ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب آپ سے معذرت ہے
  
 یہ قوم، نوجوان، یہ مذھبی تنظیمیں، یہ سنتوں کے پیکر، یہ تبلیغ دین کے ٹھیکے دار پچھلے ساٹھ سال سے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتی دیکھ رہے ہیں، پاکستانیوں کو بھوکا مرتے دیکھ رہے ہیں، یہ پاکستان کو نیلام ہوتا دیکھ رہے ہیں، یہ ظالموں کو ظلم کرتا دیکھ رہے ہیں، یہ قاتلوں کو قتل کرتا دیکھ رہے ہیں، یہ ہوس کے پجاریوں کو قوم کی بیٹیوں کو ان کے بھائيوں کے سامنے عزت لوٹتا دیکھ رہے ہیں اور یہ دیکھتے رہیں گے۔ یہ اس نظام کے دیوانے ہیں، یہ نظام تبدیل نہیں کر سکتے۔۔۔۔
 یہ قوم آپ کا ساتھ نہیں دے گی اور آئيندہ کے  لئے بھی پاکستان کو نیلام ہوتا دیکھتی رہے گي۔ عزتیں تار تار ہوتیں رہیں گی، یہ مسواک کرتے رہیں گے یا شلوار پائنچے پر بحث کرتے رہيں  گے۔ان کی سنتوں اور تبلیغ کے مطابق ظالم کے خلاف خاموش رہنا سنت ہے۔۔
  ڈاکٹرصاحب ؛ وی آر ویری سوری۔۔۔۔۔ اس نظام کو بدلنا نہ تو سنت ہے، ہماری سنتوں میں ظالم کے خلاف آواز اٹھانا شامل نہیں۔
مکمل تحریر >>

2014 جولائی 29

کیسے کہوں عید مبارک ۔۔۔۔ !


usman aziz column,

   غزہ ،لہولہو!!!!!

اک باراور یثرب سے فلسطین میں آ

دیکھ رہی ہے مسجد اقصی راستہ تیرا



معمول کا دن تھا، سحر ہونے کو تھی، سورج کی کرنیں ہر طرف اجالا کر نے میں مصروف تھی، رات کی تاریکی صبح کے اجالے میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔یکا یک آہ وبکا شروع ہو گئی کو ئی ادھر بھاگا ، کوئی ادھر ، کیا ہوا؟ یہ شور کیسا ؟ ہر طرف آہ وبکا کیوں ہے؟ جب زندگی پوری طرح بیدار ہوئی تو پتہ چلا غزہ پر اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر حملہ کر دیا۔جب زندگی بیدار ہوتی ہے تب درندوں نے زندگی کو سلانے کی کوشس شروع کر دی۔


blood in gaza, street of gaza, khoon ke holi غزہ ایک مرتبہ پھر تاریخ کی بدترین جارحیت کا شکار ہے۔ تین یہودی لڑکوں کے مبینہ اغوا اور قتل کو اسرائیل نے حملے کا بہانہ بنایا۔ ان یہودی لڑکوں کے قتل کے جواب میں ایک فلسطینی نوعمر لڑکے کو اسرائیلی غنڈوں نے زندہ جلا دیا۔لیکن اس کے باوجود دہشت گرد اور غاصب اسرائیل نے پھر ایک بار غزہ کے بے گناہ اور محصور مسلمانوں کو اپنی بربریت اور سفاکیت کا نشانہ بنا دیا اور اس بار اسرائیلی دہشت گردی اس حد تک شدید ہے کہ مظلوم فلسطینی روزہ دار نہ سحری کھا سکے اور نہ انہیں افطار میسر ہے، بالکل اذان صبح سے پہلے یعنی سحری کے موقع پر ہی اسرائیلی بمباری سے کئی گھرانے اجڑ گئے اور اسرائیل اس حد تک قومی تعصب اور عداوت میں گھر گیا ہے کہ کمسن بچوں اور خواتین پر براہ راست حملے کرنا بھی اس کی نظر میں جنگی جرم شمار نہیں ہوتا ہے۔
 
انبیاءکی سرزمین فلسطین ایک بار پھر لہو لہان ہو گئی اور غزہ ایک خوفناک جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ایک ایسے وقت    میں جب خطۂ عرب انقلاب کی آگ میں جھلس رہا ہے اور دیگر بہت سے مسائل    منہ کھولے کھڑے ہیں،اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر بمباری شروع کر دی  اور  اپنی سفاکیت دنیا پر عیاں کر دی ہے۔
kid killing, children killing in gaza, israel killing children
گزشتہ چند د نوں کے دوران فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جس بڑے پیمانے پر فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور جس طرح ان کے گھروں، املاک اور جائیدادوں کو میزائل اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اور ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ آگیا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے لیے ہی نہیں پوری دنیا میں امن و امان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی بھی ہے۔ خطے کی تازہ صورت حال کے لیے ہم سب کو معلوم ہے کہ پوری طرح اسرائیل ذمہ دار ہے۔

 آج پھر سے فلسطین جا بجا رس رہا ہے ، سرخی ہے ، گرد ہے ، دہشت ہے ، آہ و بکا ہے ، ہم بچوں کو افطار کراتے ہیں ، وہ بچوں کو گود میں لیے بھاگتے پھرتے ہیں ، ہمارے بچے ہماری آغوش میں سکون ڈھونڈتے ہیں ، ان کے بچے اپنے بڑوں کو جاۓ پناہ ڈھونڈتے دیکھتے ہیں ، فرق ہے ، بہت فرق ہے ، ادھر معمول کا فرق ہے اودھر غضب کا فرق ہے ، فرق ہے ، بہت فرق ہے لیکن بلاخر تضاد ہے ، یہ فرق جب نیتوں پر پرکھا جاتا ہے تو تضاد ہی دیکھتا ہے ، کل بھی مظاہرے تھے ، آج بھی پیچ و تاب اور اضطراب ہے ، اس کے سوا اختیار کوئی نہیں ، اس کے سوا ہماری اوقات کوئی نہیں ، سارا سال فلسطین یاد نہیں آتا ، بیچارے فلسطینیوں کو اس ہی وقت ہمارے ترانے سننے کو ملتے ہیں ، جب اسرائیلی دہشت ان کو تاک تاک کر مار رہی ہوتی ہے ، عجیب محبت ہے ، انوکھی حب ہے ، نرالا التفات ہے ، لٹ جاؤ ، برباد ہو جاؤ ، زخموں سے چور ، ٹوٹ پھوٹ جاؤ ، پھر دیکھنا میں تمہارے قصیدے کتنے پڑھوں گا ، رو رو کر بین کروں گا ، سینہ کوبی کر کر کےچھاتی لال کروں گا ، چیخ چیخ کر آسمان سر اٹھا لوں گا ، جلسہ جلوس زمین اودھم مچا دوں گا ، بس شرط اتنی ہے ، تم جب برباد ہو چکو ، قبریں کھود چکو ، پھر میں لبیک لبیک کہوں گا.      کہاں ہے انسانیت کا دم بھرنے والی تنظیمیں، کہاں ہے امن کے دعویدار مغربی ممالک، کہاں ہے پوری دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا دعوی کرنے والے، کہاں ہے عالم اسلام کی نما ئندہ تنظیمیں، تما م  اسلامی دنیا اسرائیل کے اس ظلم وجبر پر  خاموش کیوں ہے ۔کیا ان کو  ما ووں، بہنوں، بیٹیوں کی آہ وبکا ،سکیاں چیخیں ، التجائیں اور پکار سنائی نہہں دیتی۔کب تک عالمی دنیا مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھے گی اور کب تک غزہ لہولہو رہےگا۔
 
جل جائے گا کھیت تو کس کا م کا پانی۔۔۔۔۔
مل جل کر اس آگ کو بجھا کیوں نہیں دیتے
 
امن کے داعی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی بربادی اس کے مکینوں کی خاموشی میں مضمر ہوتی ہے۔ کتنے ہی ملک ایسے برباد ہوئے جنکے سیاستدانوں، شاعروں ، ادیبوں اور تاریخ سازوں کی حقائق سے چشم پوشی کی عادت ہوتی ہے. ان کی یک جہتی میں بٹوارے کی سازش ہوتی ہے . آپس کی مسلکی ، لسانی رنجشیں اور مفاد پرستی کی انتہا ہوتی ہے۔ یوں وہ اپنی اصل سے دور ہو جاتے ہیں۔ اپنے مقصد سے د ور اور انجام سے بے خبری ان کو اور انکے ملک کو مٹا دیتی ہے۔کتنا کچھ سامنے ہے قوموں کے بربا دہونے کے لیے . مٹ جانے کے لیے. مگر ہم سبق نہیں لیتے، ہم کبھی نہیں سنبھلتے اور اپنی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہیں۔
  ٹیپو سلطان نے کہا تھا''گیڈرکی سو سالہ زندگی سے بہتر شیر کی ایک دن کی زندگی ہے''ضرورت اس امر کی ہے امت مسلمہ اپنا  فعال کردار ادا کرے، اور  عالمی دنیا میں اپنی آواز اور احتجاج کو  موثر بنائے، اور غزہ میں جاری اسرائیل کی سفاکیت، بربریت ، اور ظلم وجبر کی داستاں کو ختم کرانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔
 
 مزید  بہت کچھ ، کئی نسلوں کی کسمپرسی ہے ، کئی سالوں تک کے دھکے ہیں ، اسرائیل کتنے مارے گا ؟ اور ہم خود ایک دوسرے سے الجھ کر کتنے مریں گے ، خوب معلوم ہے ،  آج جمعتہ الوداع ہے ، دعائیں ہوں گی ، رقت ہو گی ، منگتے جھولی پھیلا پھیلا دشمنوں کی بربادی کی دعا کریں گے ، لیکن ؟ کاش ، کوئی اس امت کے کان میں اتنا کہہ دے ، ترقی دشمن کے مرنے سے نہیں ، خود جی لینے کی امنگ ، پا لینے کے ہنر سے ملتی ہے ، خدا میرے گھر ، میرے وطن ، میری زمین کو امن انعام دے ، آمین
 
 

 
 
مکمل تحریر >>

2014 جولائی 25

(غزہ ،لہولہو۔!!!!۔۔۔ )


usman aziz column,

   غزہ ،لہولہو!!!!!

اک باراور یثرب سے فلسطین میں آ

دیکھ رہی ہے مسجد اقصی راستہ تیرا

معمول کا دن تھا، سحر ہونے کو تھی، سورج کی کرنیں ہر طرف اجالا کر نے میں مصروف تھی، رات کی تاریکی صبح کے اجالے میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔یکا یک آہ وبکا شروع ہو گئی کو ئی ادھر بھاگا ، کوئی ادھر ، کیا ہوا؟ یہ شور کیسا ؟ ہر طرف آہ وبکا کیوں ہے؟ جب زندگی پوری طرح بیدار ہوئی تو پتہ چلا غزہ پر اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر حملہ کر دیا۔جب زندگی بیدار ہوتی ہے تب درندوں نے زندگی کو سلانے کی کوشس شروع کر دی۔


blood in gaza, street of gaza, khoon ke holi غزہ ایک مرتبہ پھر تاریخ کی بدترین جارحیت کا شکار ہے۔ تین یہودی لڑکوں کے مبینہ اغوا اور قتل کو اسرائیل نے حملے کا بہانہ بنایا۔ ان یہودی لڑکوں کے قتل کے جواب میں ایک فلسطینی نوعمر لڑکے کو اسرائیلی غنڈوں نے زندہ جلا دیا۔لیکن اس کے باوجود دہشت گرد اور غاصب اسرائیل نے پھر ایک بار غزہ کے بے گناہ اور محصور مسلمانوں کو اپنی بربریت اور سفاکیت کا نشانہ بنا دیا اور اس بار اسرائیلی دہشت گردی اس حد تک شدید ہے کہ مظلوم فلسطینی روزہ دار نہ سحری کھا سکے اور نہ انہیں افطار میسر ہے، بالکل اذان صبح سے پہلے یعنی سحری کے موقع پر ہی اسرائیلی بمباری سے کئی گھرانے اجڑ گئے اور اسرائیل اس حد تک قومی تعصب اور عداوت میں گھر گیا ہے کہ کمسن بچوں اور خواتین پر براہ راست حملے کرنا بھی اس کی نظر میں جنگی جرم شمار نہیں ہوتا ہے۔
 
انبیاءکی سرزمین فلسطین ایک بار پھر لہو لہان ہو گئی اور غزہ ایک خوفناک جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ایک ایسے وقت    میں جب خطۂ عرب انقلاب کی آگ میں جھلس رہا ہے اور دیگر بہت سے مسائل    منہ کھولے کھڑے ہیں،اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر بمباری شروع کر دی  اور  اپنی سفاکیت دنیا پر عیاں کر دی ہے۔
kid killing, children killing in gaza, israel killing children
گزشتہ چند د نوں کے دوران فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جس بڑے پیمانے پر فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور جس طرح ان کے گھروں، املاک اور جائیدادوں کو میزائل اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اور ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ آگیا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے لیے ہی نہیں پوری دنیا میں امن و امان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی بھی ہے۔ خطے کی تازہ صورت حال کے لیے ہم سب کو معلوم ہے کہ پوری طرح اسرائیل ذمہ دار ہے۔

 آج پھر سے فلسطین جا بجا رس رہا ہے ، سرخی ہے ، گرد ہے ، دہشت ہے ، آہ و بکا ہے ، ہم بچوں کو افطار کراتے ہیں ، وہ بچوں کو گود میں لیے بھاگتے پھرتے ہیں ، ہمارے بچے ہماری آغوش میں سکون ڈھونڈتے ہیں ، ان کے بچے اپنے بڑوں کو جاۓ پناہ ڈھونڈتے دیکھتے ہیں ، فرق ہے ، بہت فرق ہے ، ادھر معمول کا فرق ہے اودھر غضب کا فرق ہے ، فرق ہے ، بہت فرق ہے لیکن بلاخر تضاد ہے ، یہ فرق جب نیتوں پر پرکھا جاتا ہے تو تضاد ہی دیکھتا ہے ، کل بھی مظاہرے تھے ، آج بھی پیچ و تاب اور اضطراب ہے ، اس کے سوا اختیار کوئی نہیں ، اس کے سوا ہماری اوقات کوئی نہیں ، سارا سال فلسطین یاد نہیں آتا ، بیچارے فلسطینیوں کو اس ہی وقت ہمارے ترانے سننے کو ملتے ہیں ، جب اسرائیلی دہشت ان کو تاک تاک کر مار رہی ہوتی ہے ، عجیب محبت ہے ، انوکھی حب ہے ، نرالا التفات ہے ، لٹ جاؤ ، برباد ہو جاؤ ، زخموں سے چور ، ٹوٹ پھوٹ جاؤ ، پھر دیکھنا میں تمہارے قصیدے کتنے پڑھوں گا ، رو رو کر بین کروں گا ، سینہ کوبی کر کر کےچھاتی لال کروں گا ، چیخ چیخ کر آسمان سر اٹھا لوں گا ، جلسہ جلوس زمین اودھم مچا دوں گا ، بس شرط اتنی ہے ، تم جب برباد ہو چکو ، قبریں کھود چکو ، پھر میں لبیک لبیک کہوں گا.      کہاں ہے انسانیت کا دم بھرنے والی تنظیمیں، کہاں ہے امن کے دعویدار مغربی ممالک، کہاں ہے پوری دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا دعوی کرنے والے، کہاں ہے عالم اسلام کی نما ئندہ تنظیمیں، تما م  اسلامی دنیا اسرائیل کے اس ظلم وجبر پر  خاموش کیوں ہے ۔کیا ان کو  ما ووں، بہنوں، بیٹیوں کی آہ وبکا ،سکیاں چیخیں ، التجائیں اور پکار سنائی نہہں دیتی۔کب تک عالمی دنیا مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھے گی اور کب تک غزہ لہولہو رہےگا۔
 
جل جائے گا کھیت تو کس کا م کا پانی۔۔۔۔۔
مل جل کر اس آگ کو بجھا کیوں نہیں دیتے
 
امن کے داعی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی بربادی اس کے مکینوں کی خاموشی میں مضمر ہوتی ہے۔ کتنے ہی ملک ایسے برباد ہوئے جنکے سیاستدانوں، شاعروں ، ادیبوں اور تاریخ سازوں کی حقائق سے چشم پوشی کی عادت ہوتی ہے. ان کی یک جہتی میں بٹوارے کی سازش ہوتی ہے . آپس کی مسلکی ، لسانی رنجشیں اور مفاد پرستی کی انتہا ہوتی ہے۔ یوں وہ اپنی اصل سے دور ہو جاتے ہیں۔ اپنے مقصد سے د ور اور انجام سے بے خبری ان کو اور انکے ملک کو مٹا دیتی ہے۔کتنا کچھ سامنے ہے قوموں کے بربا دہونے کے لیے . مٹ جانے کے لیے. مگر ہم سبق نہیں لیتے، ہم کبھی نہیں سنبھلتے اور اپنی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہیں۔
  ٹیپو سلطان نے کہا تھا''گیڈرکی سو سالہ زندگی سے بہتر شیر کی ایک دن کی زندگی ہے''ضرورت اس امر کی ہے امت مسلمہ اپنا  فعال کردار ادا کرے، اور  عالمی دنیا میں اپنی آواز اور احتجاج کو  موثر بنائے، اور غزہ میں جاری اسرائیل کی سفاکیت، بربریت ، اور ظلم وجبر کی داستاں کو ختم کرانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔
 
 مزید  بہت کچھ ، کئی نسلوں کی کسمپرسی ہے ، کئی سالوں تک کے دھکے ہیں ، اسرائیل کتنے مارے گا ؟ اور ہم خود ایک دوسرے سے الجھ کر کتنے مریں گے ، خوب معلوم ہے ،  آج جمعتہ الوداع ہے ، دعائیں ہوں گی ، رقت ہو گی ، منگتے جھولی پھیلا پھیلا دشمنوں کی بربادی کی دعا کریں گے ، لیکن ؟ کاش ، کوئی اس امت کے کان میں اتنا کہہ دے ، ترقی دشمن کے مرنے سے نہیں ، خود جی لینے کی امنگ ، پا لینے کے ہنر سے ملتی ہے ، خدا میرے گھر ، میرے وطن ، میری زمین کو امن انعام دے ، آمین
 
 

 
 
مکمل تحریر >>

2014 جولائی 21

( رمضان،رحمان اور شیطان)








 رمضان،رحمان اور شیطان)) 

رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے  ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک  ہی وہ مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم  کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔
رمضان کا لفظ رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔انسان کائنات میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی کام کرتا ہے اس کی غرض و غایت اور مقصد ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے
قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے
یا أیّھاالّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون
 اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے . شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
 اے لوگو! خدا کا مہینہ تمھارے پاس آیا هے .وہ مہینہ جو تمام مہینوں پر فضیلت رکھتا هے ، جس کے دن بہترین دن   جس کی راتیں بہترین راتیں اور جس کی گھڑیاں سب سے بہترین گھڑیاں ہیں
دنیا کی فضا چونکہ عموماً معصیت اور گناہ کی فضا ہے ، دوسری طرف نفس و شیطان بھی اس کوشش اور سعی میں رہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمان راہِ راست سے ہٹ جائے، اس لئے عام طور پر مسلمان اس فضا سے متاثر ہوکر نفس و شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے، اور اس سے گناہوں اور معصیتوں کا صدور ہو جاتا ہے، بلاشبہ ضابطہ اور اصول کا تقاضا تو یہی تھا کہ جب: ”وھدیناہ النجدین“ ...ہم نے اس کو دونوں راستوں کی نشاندہی کردی...کے ذریعہ اس پر طاعت و معصیت اور نیکی و گناہ کی حقیقت واضح ہوچکی تھی تو مرتکبِ معصیت کو اپنے کئے کی سزا ملنی چاہئے تھی، مگر رحمتِ الٰہی اور شفقتِ خداوندی نے اس کو گوارہ نہ ہوا کہ اس بھولے بھالے مسلمان کو اس کے کئے کی خود سزا ملے، اس لئے رحمتِ الٰہی کا تقاضا ہوا کہ ا س کو اپنے گناہوں اور معصیتوں کی معافی تلافی کا موقع ملنا چاہئے، تاکہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اتار کر جنت کا مستحق اور جہنم سے بچ سکے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مسلمانوں کے لئے رمضان اور روزے مقرر فرمائے، بلاشبہ رمضان اور اس کی عبادات اسی رحمت و مغفرت الٰہیہ کے حصول اور گناہوں کے بوجھ کو ہلکا کرنے کا بہترین سامان ہے،
 جیسا کہ حدیث شریف میں ہے
عن ابی ہریرة قال: قال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ”اعطیت امتی خمس خصال فی رمضان لم تعطہن امة قبلہم، خلوف فم الصائم اطیب عنداللّٰہ من ریح المسک، وتستغفرلہم الحیتان حتی یفطروا، ویزین اللّٰہ عزوجل کل یوم جنتہ، ثم یقول: یوشک عبادی الصالحون ان یلقوا عنہم المؤئنةا ویصیروا الیک، وتصفد فیہ مردة الشیاطین ،فلایخلصوا فیہ الی ماکانوا یخلصون الیہ فی غیرہ، ویغفرلہم فی آخر لیلة، قیل یا رسول اللّٰہ! اہی لیلة القدر؟ قال :” لا ! ولکن العامل انما یوفّٰی اجرہ اذا قضیٰ عملہ۔“
(الترغیب والترہیب ص:
۵۵،ج:۲، مسند احمد، ص:۲۹۲، ج:۲۔
ترجمہ:”حضرت ابو ہریرہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ میری امت کو رمضان شریف کے بارہ میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی گئیں ہیں، جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں؟۱:․․․ یہ کہ ان کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے،۲:․․․ یہ کہ ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں، ۳:․․․ یہ کہ جنت ہر روز ان کے لئے آراستہ کی جاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے...دنیا کی...مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آویں،۴:․․․ یہ کہ اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ا ن برائیوں تک نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں، ۵:․․․ یہ کہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ شبِ مغفرت، شب ِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں! بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم کرنے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے
اس اعتبار سے بلاشبہ رمضان المبارک اور اس کی عبادات، مسلمانوں کے سال بھر کے گناہوں اور گناہوں کے بوجھ کو مٹانے، ختم کرنے اور ان کو اپنے سرسے اتار پھینکنے کی ایک بہترین شکل ہے۔ رمضان اور مضان کی عبادات ،بلکہ اس کی ساعتوں کی برکات سے انسان کے گناہوں کی غلاظت کا کس طرح صفایا ہوتا ہے؟ اس کی ایک جھلک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں ملاحظہ ہو 
عن ابی ہریرة قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: من صام رمضان ایماناً واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ، ومن قام رمضان ایماناََ واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ، ومن قام لیلة القدر ایماناً واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔“ (مشکوٰة، ص:۱۷۳)
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو شخص ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو شخص ا یمان اور اخلاص کے ساتھ رمضان میں عبادت کرے، اس کے گزشتہ معاصی معاف کردیئے جاتے ہیں، اسی طرح جو شخص شب ِ قدر میں ایمان و اخلاص سے شب ِ قدر میں عبادت میں مشغول رہے ،اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
 گویا رمضان اور اس کی عبادات، انسان کے سال بھر کے، بلکہ زندگی بھر کے تمام گناہوں کے بوجھ سے چھٹکارے کا سبب ہے، دوسرے الفاظ میں ایک ایسا مسلمان جو نفس و شیطان کے بہکاوے میں آگیا تھا اور معصیت و گناہ کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کرچکا تھا، اس کو دعوت دی جارہی ہے کہ: ”باز آ، باز آ، ہر آنچہ ہستی باز آ“ مایوسی کی ضرورت نہیں ،دریائے رحمت جوش میں ہے، اس میں غوطہ لگاکر اپنے گناہوں کی غلاظت صاف کرکے دوبارہ محبوبِ بار گاہ الٰہی بن جایئے!
 چلتی ہو ئی گاڑی کو جب روکتے ہیں تو وہ فورا نہیں رک جاتیً   بلکہ اس کی رفتار آہستہ آہستہ سست ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ رک جا تی ہے یہی وہ قانون یے جس کو انرشیا کا قانون کیتے ہیں . اور اس قانون کا موجب نیوٹن نا می ساینس دان تھا اس کے مطابق
"ایک جسم ریسٹ کی حالت کو اور موشن کی حالت کو اس وقت تک برقرار رکھتا ہے جب تک اس پر کو ئی بیرونی فورس عمل نہ کرے۔"
اسی طرح سال کے گیارہ ماہ شیطان کی کمپنی میں انجوائے کرنے کے بعد جب رمضان میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے تو ہمارا نفس شیطان کی کمپنی کو مِس کرتا ہے اور اس عارضی جدائی کا غم غلط کرنے کے لیے ہمیں رمضان میں بھی گناہوں اور معصیت کے کاموں کی طرف رغبت دلاتا رہتا ہے.رمضان وہ فورس ہے جس کے ذریعے ہم اپنے نفس پر قابو پا کر شیطان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔رمضان کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ رمضان کے اس تربیتی پروگرام کو رمضان کے بعد بھی فالو کرتے رہیں تاکہ اگلے برس جب رمضان آئے تو ہمارا نفس اتنا تربیت یافتہ ہو چکا ہو کہ وہ  گاڑی کی طرح گناہوں سے نہ رکے بلکہ بلب کی طرح فیوز ہو کر فوراً گناہوں سے رک جایا کرے. (انشاءاللہ)

 
 

 
مکمل تحریر >>

2014 جولائی 10

( نکتہ چینی اور طاہر القادری )

usman aziz
 
  



crticism by usman aziz ایک دفعہ کا ذکر ہے  ایک مصور نے ایک خوبصورت سی تصویر بنائی اور اس کو شہر کے مرکزی چوک پر رکھ دیا اور اس کے اوپریہ لکھ دیا کے ’’اگر اس  تصویر میں کو ئی غلطی ہو تو اس کے نشان دہی کر دی جائے ‘‘صبح  جا کر وہ اپنی تصویر کو دیکھتا ہے تو حیران اور  پریشان ہو جاتا ہے کوئی ایسی جگہ   تصویر میں، ایسی نہیں ہوتی جہاں پر نشان نہ لگا ہوا ہو ۔وہ اسی طرح کی حالت دیکھتا ہےاپنے اس فن پارے کی جس کو اس نے  بڑی مخنت سے تخلیق کیا ہوتا ہےتو بہت  افسردہ ہوتا ہے   اسی پریشانی کی حالت میں اور دلبرداشتہ ہو کر، ٹوٹے ہوئے دل سے تھکے ہارے ہوئے قدموں کے ساتھ واپس اپنی منزل کی  طرف جا   رہا  ہوتا ہے تو ایک بابا جی اس کو  رستے میں دیکھتے  ہیں اور پو چھتے ہیں اے  ا بن آدم کیا بات ہے  بہت پریشان نظرآ رہے ہوں اگر مجھے اپنا ہمدرد سمجھو تو اپنے دل کی بات  کہہ دو اس بات پر مصورنے  پورا ماجرا بتا دیا  تو بابا جی ہسنے لگے اور کہا کے اے آدم کے  بیٹے اس طرح کی  دوبارہ ایک تصویر بنا ؤ اور دوبارہ اس چوک  پر رکھ دو اور اس  پر یہ لکھ دو کے ’’اگراس میں کوئی  غلطی ہو تو اس کو ٹھیک کر د یں ‘‘جب  مصور اگلے دن جاتا ہے اور دیکھتا ہے اپنی تصویر کو حیران رہ جاتا ہے تصویر کے اپر ایک بھی نشان نہیں تھا وہ بابا جی کے پاس جاتا ہے اور پوچھتا ہے یہ ماجرا کیا ہے بابا جی کہتے ہیں اے ا بن آدم لوگ تنقید آسانی سے کر لاتے ہیں لیکن اصلاح کرنا ان کے لیے سب سے مشکل کام ہوتا ہے    ۔تنقید کرنا دنیا کا سب سے  آسان کام ہےلیکن غلطیوں کو درست ہر کوئی نہیں کر سکتا۔                                                                                                                              
میں جب اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو  مجھے ہر طرف نکتہ چینی ہی نظر  اتی ہے .  ادھر والےادھر والوں پر  ادھر والے ادھر والون پر، مشرق والے مغرپ والوںپر،مغرپ والے مش ق والوں پر، افسران ملازمیں پر، ملازمیں افسران پر،طالبعلم اساتذہ پراور زساتذہ طالبعلمون پر ، الغرض زندکی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں رہنے والے ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہ کر رہے ہو۔اگر میں مللکی سیاست کی بات کرون تو حکمران اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لینے ہیں اور اپوزیشن والے حکمرانون کو ، ایک تماشہ سا لگا ہوا یے ، عوام پاکستان کو بے وقوف بنا یا جا رہا ہے ایک دوسرے کے ساتھ باریاں طے کر رکھی ہے پہلے میں بے وقوف بناتا ہوں پھر آپ بنانا                                                                                                                    
ایسا  کیوںہو رہا ہےمین سوچتا ہوں تو مجھے بچپن کی سنی ہویی کہانی یاد آتی کیوں کہ تنقید کرناآسان اور اصلاح کرنا  مشکل ہے۔پھرمیں یہ سوچتا ہوں کیا آج کل کے زمانے میں ہر ایک تنقید  یا نکتہ چینی ہی کررہایے یاکوئی اصلاح بھی کر رہا بچپنن کی اس کہانی کے بابا جی کی طرح تو مجھے مملکت خداد پاکستان میں ایک ہی بابا جی نظر آتے ہیں جو نتقید کا شکار ہیں ، ملک پاکستان مین پسنے والا ہر شخص ان پر نکتہ چینی کرنا ثواپ کا کام سمجھتاہے وہ بابا جی مجھے طاہر القادری کی صورت میں نظر آرہے ہییں کیوں کہ وہ واحد شخصیت ہے جو عوام پاکستان کے مسائل کو نہ صرف اجاگر کر رہی یے بلکہ اس کا حل بھی پیش کر رہی ہے ان کے علاوہ تو ہر کویئ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہاہے کوئی حلقوں کی سیاست سے با ہر نہں آرہا تو کوئی میثاق جمہوریت کے نام پر عوام پاکستان کے ساتھ مذاق کر رہا ہے ۔                                                                                                                                                                   
یہ میر ی ذاتی رائے ہے آپ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا آج کے دور کا بابا جی کون ہے۔  انتظار ہی کیا جا سکتا ہے تب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                                                                                                                          ۔


           

مکمل تحریر >>