2015 جولائی 25

جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ اور عمران خاں

جوڈیشل کمیشن
جوڈ یشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد میڈیا اور نون لیگ کے سپورٹر اور کچھ فیس بک کے تجزیہ نگار اس بات کا ڈھونڈرا پیٹ رہے ہیں کے عمران خان کی مقبولیت کا گراف کم ہو گا، خان صا حب کے سپورٹر کو ملا ہوں، ان کی رائے سنی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں عمران خان کی مقبولیت کو اور ان کی جما عت کو اور ان کی سیاسی پارٹی کو اس نا م نہاد کمیشن کی رپورٹ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عمران خان کا گراف اوپر ہی جا ئے گا جہاں ماڈل ٹاؤن کے چودہ شہداء کا انصاف نہ ملے اور قاتل خود ہی منصف، وکیل اور تفتیش کرنے والے ہوں وہاں اگر فارم چودہ کے حوالے سے ایسی رپورٹ یی رپورٹ کی توقع تھی۔
خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل تحریر >>

2014 نومبر 6

جہالت اور لا قانونیت

جب انسانی معاشرہ ارتقائی مراحل میں تها تو کسی قسم کا قانون، ضابطہ اور اصول موجود نہ تها اسلئے ہر طرف من مانی کی سی فضا تهی. شعور تو دور کی بات لوگ اس لفظ سے بهی نا آ شنا تهے. غلط کو درست اور درست کو غلط سمجھا جاتا تها۔ مگر مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ ذہنی بالیدگی ہوئی. انسان شعور کی منازل طے کرنے لگا. معاشرے میں استحکام اور توازن قائم کرنے کے لئے اصول اور قوانین وضع کئے گئے. انسانیت نے ان اصولوں اور قوانین کو زندگی کا حصہ بنا لیا۔

کی تمیز مقرر کرد گئی اور پرامن بقائے باہمی کے لئے ایک دوسرے کا احترام کرنے لگے۔ مگر شومئ قسمت ہمارے معاشرے میں آج بهی جنگل کا قانون نافذ ہے اور جهالت کوٹ کوٹ کر بهری ہے. جو ہمارے زوال کی سب بڑی وجہ ہے۔ کل کا واقعہ بهی ہماری جهالت اور لاقانونیت کا ثبوت ہے.
قانون کا تقاضا ہے کہ ملزم کو جرم ثابت ہونے سے پہلے مجرم نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی ماورائے عدالت سزا دی جاسکتی ہے.
مگر مسیحی میاں بیوی کو بهٹی میں پھینک کر زندہ جلا دیا گیا اسلئے کہ ان پر یہ الزام تها انہوں نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی۔ چاہئے تو یہ تها کہ عدالتوں کا رخ کیا جاتا یا پهر عدالتوں کو بهی جلا دیا جاتا.
میرے نزدیک جنگل کا قانون نافذ کردیا جائے. یعنی نہ تو کوئی قانون نہ ہی کوئی ضابطہ. سب اپنی مرضی کریں. قاتل کو خود قتل کریں، چور کے ہاتھ خود کاٹیں.گستاخ مذہب کو بهی خود پهانسی دیں. کسی سے عدل و انصاف کی توقع نہ رکهیں.اور براہ مہربانی پرامن بقائے باہمی اور ترقی یافتہ پاکستان کے حصول کا خواب، خواب ہی رہنے دیں۔۔۔۔۔۔.
ماورائے عدالت مارے جانے والے عیسائی جوڑے کی تصویر اور جلنے کے بعد بچ جانے والی ہڈیاں ہیں۔۔

 
مکمل تحریر >>

2014 نومبر 4

حضرت امام حسین علیہ السلام

10 محرم الحرام 61 ھجری یوم شہادت نواسہ رسول ﷺ جگر گوشہ بتول رضی اللہ عنہا لخت جگر
      حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ

محرم الحرام میں امام عالی مقام سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ خانوادۃ نبوت اور اپنے اصحآب کے ساتھ میدان کربلا میں اللہ کے دین کی سربلندی اور ظالمانہ، فاسقانہ اور آمرانہ نظام کے خلاف جہاد کا علم بلند کرنے کے لیۓ جمع ہوۓ۔ 
مستورات مقدسہ اور سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر باقی سب مقدس نفوس جام شہادت نوش فرما گۓ۔ یہ تاریخ انسانیت کی ایک بہت بڑی قربانی ہے جو ماہ محرم الحرام میں پیش آئی اور اللہ تعالی نے اسے امت مسلمہ کے لۓ تا ابد اسلام کے شعائر میں داخل فرما دیا۔

مکمل تحریر >>

واہگہ بارڈر

شاہی باغ سے امرود توڑنے پر اور ایک بلی کے شاہی مور کہا جانے پر نواز شریف نے کئی سپاہیوں کو معطل و فارغ کردیا۔ لیکن آج سینکڑو خاندان سانحہ واہگہ بارڈر میں اجڑ گئے، گود ویران ہو گئیں، بچے یتیم ہو گئے، سہاگ اجڑ گئے۔ سو کے قریب اپاہج ہوگئے اپنے جسم کے بچے کچے حصے لے کر، جبکہ دعوہ یہ ہے کہ پیشگی اطلاع تھی حکومت پنجاب کو، اور دھماکہ انڈیا کے ساتھ تجارت میں استعمال ہونے والے ٹرکوں کی آڑ میں کیا گیا ، جس کے مناسب چیکنگ کا اس انڈین نواز گورنمنٹ کو کوئی طریقہ کار نہیں۔ تو اس غفلت و لاپرواہی پر کیا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف معطل یا فارغ ہوں گے؟؟ یہ ایک سوال ہے ان نام نہاد جمہوریت کے چیمپینز اور حواریوں کے لئے۔ اگر جواب نہیں ہے۔ تو میں پوچھتا ہوں یہ کون سی جمہوریت و طرز حکمرانی ہے جس میں انسانی جانوں کی قیمت ایک شاہی مور اور شاپی امرود کے برابر بھی نہیں۔ آج وہ انسان نشانے بننے غم نہ کرو اگر ایسا ہی رہا تو یہ آگ ایک ایک دن ہمارے، تمہارے گھر کو بھی لپیٹ میں لے گی۔ یہ اللہ کا قانون ہے ظلم کا ساتھ دینے والا ظالم سے بڑا سزا وار ہے اس کے ہاں۔

مکمل تحریر >>

2014 اگست 5

خرابی کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!!

working women issumes,  problems facing by womenآج کل مملکت خداد پاکستان میں  مواد کی کمی نہیں ہے ۔ اتنے مسائل ہے کہ آپ کس کس عنوان پر قلم اٹھائے گے۔ آپ لکھتے لکھتے تھک جائیں گے لیکن مسائل میں کمی نہیں آئے گی ۔ میں بھی آج جب لکھنے بیٹھا تو بہت سے عنوانات تھے لکھوں تو کس پر لکھوں ۔۔۔ آزادی مارچ کی بات کرو یا عوامی جمہوری انقلاب کی، لوڈ شیڈنگ کے مسائل کی بات کرو یا بلوچ قوم کے احساس محرومی کی ، ریلوے  کی  زبوں حالی کی بات کرو ، پی آئی اے کی لاجواب سروس کی بات کرو۔ میں شکریہ ادا کرتا ہوں مملکت خداد پاکستان کے حکمرانوں کا جو عنوانات کی کمی ہونے ہی نہیں دیتے ۔  اپنے  افعال اور کردار کی وجہ سے  ایسا کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں جو   ہم جیسے  اناڑی لکھاریوں کے ہاتھ آ جاتا ہےپھر اس پر اپنے قلم کا ر غصہ  جھاڑنے لگ جاتے ہیں۔سو ان پر تو بحث ہوتی ہی رہے گی لیکن آج   میں ایک سماجی مسئلہ کو زیر بحث لاتا ہوں شاید میری اس کاوش سے کسی حد تک  یہ معاشرتی برائی ختم ہو سکے۔


Pakistani hijab girl diriving, social evils of pakistan کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں شہر کے ایک بڑے چوراہے پر ٹریفک سگنل کے کھلنے کا انتظار کر رہا تھا میرے پیچھے ایک گاڑی آکر رک گئی گاڑی ایک خاتون ڈرائیو کر رہی تھیں جس   نے حجاب کر رکھا تھا . میرے برابر ہی موٹرسائیکل پر دو نوجوان بھی کھڑے تھے . ایک نے پیچھے مڑ کر خاتون کو دیکھا اس کے بعد اس نے اپنے آگے والے کو آہستہ سے کچھ کہا وہ بھی پیچھے کو گردن گھما کر دیکھنے لگا اور پھر دونوں آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے مسکرانے لگے ان کی نظروں کے تعاقب میں اردگرد موجود کچھ اور مرد حضرات بھی خاتون کو گہری نظروں سے گھورنے لگے . میری نظر اس خاتون کے چہرے کی جانب اٹھی تو میں نے واضح طور پر عورت کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ اور آنکھوں میں شدید کرب کی پرچھائیاں دیکھی .خود میری کیفیت یہ تھی کہ مجھے لگ رہا تھا جیسے کسی شرم حیا والی عورت کو بیچ بازار بے پردہ کر دیا گیا ہو . میری قوم کے سپوت کسی ضروری کام کی خاطر گھر سے نکلنے والی ایک شریف اور باپردہ خاتون کو نظروں ہی نظروں میں کچا چبا جانے کے انداز میں دیکھ رہے تھے . یہ واقعہ چند سیکنڈوں کا تھا مجھے لگا ان چند سیکنڈوں میں میری قوم کی تمام بہنوں بیٹیوں کے سروں سے میری قوم کے بیٹوں نے شرم و حیا کی چادر نوچ کر پھینک دی ہو . مجھے خرابی کی سمجھ نہیں آ رہی تھی خرابی اس خاتون کے گھر سے نکلنے میں تھی ؟ خرابی ایک عورت کے ڈرائیو کرنے میں تھی ؟ یا خرابی ہم سب کے ڈی این اے میں ہے جو شرم و حیا سے محروم ہوچکا ہے۔
مکمل تحریر >>