2014 جولائی 7

( آزادی کا دن)


خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

 
پاکستان کا قیام جمعہ کے دن، شب نزول قرآن مجید کے مہینے میں ہوا جب شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں.پاکستان کے قیام میں اللہ کی خاص رحمت شامل ہے. انشاءاللہ پاکستان قیامت تک زندہ و آباد اور قائم و دائم رہے گا. کوئی طاغوتی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی. دشمن کی کوئی چال کوئی حربہ پاک سر زمین کو نقصان نہیں پہنچا سکتا. ہم کل بھی آزاد تھے آج بھی آزاد ہیں اور اپنے رب کی عطا سے کل بھی آزاد ہونگے. آج ہم اس پاک سر زمین کے مرغزاروں، ریگزاروں، آباد قصبوں اور شہروں میں آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں. یہاں کی سر سبز و شاداب وادیاں ہمیں زندگی کے جبر سے بے خبر کئے ہوئے ہیں. اس کے دامن میں جاری دریا اور اس کی تہوں میں چھپے خزانے ہماری توانائیوں کے جواب میں اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہیں. یہاں کے پہاڑوں کی بلندیاں اور سمندر کی وسعتیں ہماری ہمتوں کی آزمائش کے لئے محو انتظار ہیں. اس خطہ ارضی کے دامن میں قدرت کے ان گنت عطیات پوشیدہ ہیں. لیکن افسوس ہماری تمام تر توانائیاں سہل انگاری کی نظر ہو گئیں، ہماری خوابیدہ صلاحیتں کسی معجزہ کے ظہور کا انتظار کر رہیں ہیں. لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سہل انگاری اور معجزوں کے تصور سے باہر نکلیں اور اپنے ان دشمنوں کو پہچانیں جنہوں نے ہمیں 67 برس تک قیام پاکستان کے اصل مقصد سے دور رکھا ہوا ہے.
پاکستان ہمارے پاس اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک امانت ہے. یہ امانت ان شہداء کی ہے جن کا گرم لہو پاکستان کی بنیادوں میں شامل ہے. یہ امانت ہے ہماری آئندہ نسلوں کی جنہیں کل اس کا پاسبان بننا ہے. پاکستان ایک حقیت ہے یہ عطیہ خداوندی ہے ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیئے. آپ اپنے آپ پر غور کریں اور سوچیں کیا ہم اس عطیہ کی قدر کر رہے ہیں یا اس کا مذاق اڑا رہے ہیں. ہم جشن آزادی کیسے مناتے ہیں؟ کون سی ایسی غیر اخلاقی حرکت ہے جو ہم نہیں کرتے اگر آج ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں. آج اگر پاکستان ڈوب رہا ہے اور باطل اس قوم کی تباہی و بربادی پر ہنس رہا ہے تو اس کی وجہ ہمارے اعمال ہیں. 14 اگست کے دن سائیلنسر فری موٹر سائیکلوں کا بے ہنگم شور کانوں کے پردے پھاڑ دیتا ہے، نوجوان راہ چلتی لڑکیوں اور عورتوں کے سروں سے دوپٹے کھینچ کر لے جاتے ہیں. مادر پدر آزادی کے متوالے ایک پہیئے پر موٹر سائیکل چلا کر ماؤں کی گود ویران کر جاتے ہیں. بیہودہSMS کے ذریعے پاکستان کے وجود کا مذاق آڑایا جاتا ہے. باقی کسر یوم آزادی پر منائی جانے والی Special Nights پوری کر دیتی ہیں. جب رات کے اندھیرے میں پاکستان کی عزت اور غیرت کے سودے ہوتے ہیں، شراب کو حلال کیا جاتا ہے اور آزادی کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے. کیا یہ سب باتیں اللہ تعالٰٰی کو پسند آئیں گی ان حالات میں ہم پر عذاب نہیں نازل ہوں گے تو کیا اللہ کی رحمت ہو گی

 ١٤اگست کا دن قریب ہے اب سے ٹھیک 67 سال قبل 14 اگست ہی کے دن برصغیر پاک و ہند کے مسلمان بےتحاشہ قربانیاں دے کر آلام و مصائب کے دریاؤں کو عبور کر کے ظلم و ستم کو برداشت کرکے آزادی کی نعمت سے ھمکنار ہوئے. آزادی یوں ہی نہیں مل جاتی آزادی بہت قیمت مانگتی ہے. تازیخ اٹھا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے ہر دور میں انسان نے اس کی قیمت ادا کی ہے. دنیا کے نقشے پر آزاد ممالک کا نام بے پایاں کٹھنائیوں ، قربانیوں اور دکھوں کے بعد تحریر ہوا ہے. الجزائر کے لوگ اس وقت تک منزل آزادی سے ہمکنار نہیں ہوئے جب تک بن نیلا کے بدن پر زخموں کے ستر نشان ثبت نہیں ہوئے. انڈونیشیا کی عوام کے لیے غلامی کی سیاہ رات اس وقت تک نیں بدلی جب تک انہوں نے اپنے زخمی ہاتھوں سے اپنے لہو کے چراغ نہیں جلائے اور پاکستان اس وقت تک نقشہ عالم پر نہیں ابھرا جب تک شہروں ، بستیوں ، گلیوں اور بازاروں میں خون کی ہولی نہیں کھیلی گئی. آزادی اللہ تعالٰی کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے. آزادی جنت جبکہ غلامی دوزخ ہے. کھلی فضاءوں میں سانس لینا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے. آزادی سے قبل دو سو سال تک مسلمان انگریز کے محکوم رہے انگریزوں نے ان سے آزادی کی دولت چھین کر ان کو اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا. انگریز نے اپنے دورحکومت میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے اور ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور ان کو اپنے بے پناہ ظلم و تشدد کا جس طرح نشانہ بنایا وہ ہر تاریخی شعور رکھنے والے شخص سے پوشیدہ نہیں.
بہرحال مسلمان 14 اگست 1947 کو انگریز کی غلامی سے آزاد ہوئے. ان کو یہ آزادی بہت آسانی سے نہیں ملی ان کو یہ آزادی کیسے ملی اس کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر قائم کیا گیا اور برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں نے اس کی تعمیر و تشکیل کے لیے بیش بہا قربانیاں دیں ، در حقیقت پاکستان اسلام اور مسلم قومیت کی بنا پر معرض وجود میں آیا. جیسا کہ مولانا محمد علی جالندھری نے 8 مارچ 1944 ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہے کہ مسلم لیگ کو قائداعظم محمد علی جناح جیسا زیرک ، عقیل و فہیم ، راست باز ، نیک و کار ، بااصول ، محنتی ، مخلص، مستعد قائد نصیب ہوا ، جس نے اپنے ناخن تدبیر سے الجھے ہوئے مسائل کو سلجھا دیا. مسلم لیگ کی اس لحاظ سے بھی بہت بڑی کامیابی تھی کہ علمائے کرام کی بہت بڑی جماعت نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا بلکہ قائداعظم کے ساتھ شانہ بشانہ چلے. پاکستان محمد علی جناح کی شب و روز کی کوششوں اور ان کی مساعی جمیلہ سے معرض وجود میں آیا.

اونچا رہے یہ نشاں ہمارا
یہ چاند اور یہ تارہ

مکمل تحریر >>