2014 جولائی 21

( رمضان،رحمان اور شیطان)








 رمضان،رحمان اور شیطان)) 

رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے  ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک  ہی وہ مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم  کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔
رمضان کا لفظ رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔انسان کائنات میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی کام کرتا ہے اس کی غرض و غایت اور مقصد ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے
قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے
یا أیّھاالّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون
 اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے . شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ
رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
 اے لوگو! خدا کا مہینہ تمھارے پاس آیا هے .وہ مہینہ جو تمام مہینوں پر فضیلت رکھتا هے ، جس کے دن بہترین دن   جس کی راتیں بہترین راتیں اور جس کی گھڑیاں سب سے بہترین گھڑیاں ہیں
دنیا کی فضا چونکہ عموماً معصیت اور گناہ کی فضا ہے ، دوسری طرف نفس و شیطان بھی اس کوشش اور سعی میں رہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمان راہِ راست سے ہٹ جائے، اس لئے عام طور پر مسلمان اس فضا سے متاثر ہوکر نفس و شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے، اور اس سے گناہوں اور معصیتوں کا صدور ہو جاتا ہے، بلاشبہ ضابطہ اور اصول کا تقاضا تو یہی تھا کہ جب: ”وھدیناہ النجدین“ ...ہم نے اس کو دونوں راستوں کی نشاندہی کردی...کے ذریعہ اس پر طاعت و معصیت اور نیکی و گناہ کی حقیقت واضح ہوچکی تھی تو مرتکبِ معصیت کو اپنے کئے کی سزا ملنی چاہئے تھی، مگر رحمتِ الٰہی اور شفقتِ خداوندی نے اس کو گوارہ نہ ہوا کہ اس بھولے بھالے مسلمان کو اس کے کئے کی خود سزا ملے، اس لئے رحمتِ الٰہی کا تقاضا ہوا کہ ا س کو اپنے گناہوں اور معصیتوں کی معافی تلافی کا موقع ملنا چاہئے، تاکہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اتار کر جنت کا مستحق اور جہنم سے بچ سکے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مسلمانوں کے لئے رمضان اور روزے مقرر فرمائے، بلاشبہ رمضان اور اس کی عبادات اسی رحمت و مغفرت الٰہیہ کے حصول اور گناہوں کے بوجھ کو ہلکا کرنے کا بہترین سامان ہے،
 جیسا کہ حدیث شریف میں ہے
عن ابی ہریرة قال: قال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ”اعطیت امتی خمس خصال فی رمضان لم تعطہن امة قبلہم، خلوف فم الصائم اطیب عنداللّٰہ من ریح المسک، وتستغفرلہم الحیتان حتی یفطروا، ویزین اللّٰہ عزوجل کل یوم جنتہ، ثم یقول: یوشک عبادی الصالحون ان یلقوا عنہم المؤئنةا ویصیروا الیک، وتصفد فیہ مردة الشیاطین ،فلایخلصوا فیہ الی ماکانوا یخلصون الیہ فی غیرہ، ویغفرلہم فی آخر لیلة، قیل یا رسول اللّٰہ! اہی لیلة القدر؟ قال :” لا ! ولکن العامل انما یوفّٰی اجرہ اذا قضیٰ عملہ۔“
(الترغیب والترہیب ص:
۵۵،ج:۲، مسند احمد، ص:۲۹۲، ج:۲۔
ترجمہ:”حضرت ابو ہریرہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ میری امت کو رمضان شریف کے بارہ میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی گئیں ہیں، جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں؟۱:․․․ یہ کہ ان کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے،۲:․․․ یہ کہ ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں، ۳:․․․ یہ کہ جنت ہر روز ان کے لئے آراستہ کی جاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے...دنیا کی...مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آویں،۴:․․․ یہ کہ اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ا ن برائیوں تک نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں، ۵:․․․ یہ کہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ شبِ مغفرت، شب ِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں! بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم کرنے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے
اس اعتبار سے بلاشبہ رمضان المبارک اور اس کی عبادات، مسلمانوں کے سال بھر کے گناہوں اور گناہوں کے بوجھ کو مٹانے، ختم کرنے اور ان کو اپنے سرسے اتار پھینکنے کی ایک بہترین شکل ہے۔ رمضان اور مضان کی عبادات ،بلکہ اس کی ساعتوں کی برکات سے انسان کے گناہوں کی غلاظت کا کس طرح صفایا ہوتا ہے؟ اس کی ایک جھلک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں ملاحظہ ہو 
عن ابی ہریرة قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: من صام رمضان ایماناً واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ، ومن قام رمضان ایماناََ واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ، ومن قام لیلة القدر ایماناً واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔“ (مشکوٰة، ص:۱۷۳)
ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو شخص ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو شخص ا یمان اور اخلاص کے ساتھ رمضان میں عبادت کرے، اس کے گزشتہ معاصی معاف کردیئے جاتے ہیں، اسی طرح جو شخص شب ِ قدر میں ایمان و اخلاص سے شب ِ قدر میں عبادت میں مشغول رہے ،اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
 گویا رمضان اور اس کی عبادات، انسان کے سال بھر کے، بلکہ زندگی بھر کے تمام گناہوں کے بوجھ سے چھٹکارے کا سبب ہے، دوسرے الفاظ میں ایک ایسا مسلمان جو نفس و شیطان کے بہکاوے میں آگیا تھا اور معصیت و گناہ کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کرچکا تھا، اس کو دعوت دی جارہی ہے کہ: ”باز آ، باز آ، ہر آنچہ ہستی باز آ“ مایوسی کی ضرورت نہیں ،دریائے رحمت جوش میں ہے، اس میں غوطہ لگاکر اپنے گناہوں کی غلاظت صاف کرکے دوبارہ محبوبِ بار گاہ الٰہی بن جایئے!
 چلتی ہو ئی گاڑی کو جب روکتے ہیں تو وہ فورا نہیں رک جاتیً   بلکہ اس کی رفتار آہستہ آہستہ سست ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ رک جا تی ہے یہی وہ قانون یے جس کو انرشیا کا قانون کیتے ہیں . اور اس قانون کا موجب نیوٹن نا می ساینس دان تھا اس کے مطابق
"ایک جسم ریسٹ کی حالت کو اور موشن کی حالت کو اس وقت تک برقرار رکھتا ہے جب تک اس پر کو ئی بیرونی فورس عمل نہ کرے۔"
اسی طرح سال کے گیارہ ماہ شیطان کی کمپنی میں انجوائے کرنے کے بعد جب رمضان میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے تو ہمارا نفس شیطان کی کمپنی کو مِس کرتا ہے اور اس عارضی جدائی کا غم غلط کرنے کے لیے ہمیں رمضان میں بھی گناہوں اور معصیت کے کاموں کی طرف رغبت دلاتا رہتا ہے.رمضان وہ فورس ہے جس کے ذریعے ہم اپنے نفس پر قابو پا کر شیطان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔رمضان کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ رمضان کے اس تربیتی پروگرام کو رمضان کے بعد بھی فالو کرتے رہیں تاکہ اگلے برس جب رمضان آئے تو ہمارا نفس اتنا تربیت یافتہ ہو چکا ہو کہ وہ  گاڑی کی طرح گناہوں سے نہ رکے بلکہ بلب کی طرح فیوز ہو کر فوراً گناہوں سے رک جایا کرے. (انشاءاللہ)

 
 

 
مکمل تحریر >>