2014 اگست 5

خرابی کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!!

working women issumes,  problems facing by womenآج کل مملکت خداد پاکستان میں  مواد کی کمی نہیں ہے ۔ اتنے مسائل ہے کہ آپ کس کس عنوان پر قلم اٹھائے گے۔ آپ لکھتے لکھتے تھک جائیں گے لیکن مسائل میں کمی نہیں آئے گی ۔ میں بھی آج جب لکھنے بیٹھا تو بہت سے عنوانات تھے لکھوں تو کس پر لکھوں ۔۔۔ آزادی مارچ کی بات کرو یا عوامی جمہوری انقلاب کی، لوڈ شیڈنگ کے مسائل کی بات کرو یا بلوچ قوم کے احساس محرومی کی ، ریلوے  کی  زبوں حالی کی بات کرو ، پی آئی اے کی لاجواب سروس کی بات کرو۔ میں شکریہ ادا کرتا ہوں مملکت خداد پاکستان کے حکمرانوں کا جو عنوانات کی کمی ہونے ہی نہیں دیتے ۔  اپنے  افعال اور کردار کی وجہ سے  ایسا کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں جو   ہم جیسے  اناڑی لکھاریوں کے ہاتھ آ جاتا ہےپھر اس پر اپنے قلم کا ر غصہ  جھاڑنے لگ جاتے ہیں۔سو ان پر تو بحث ہوتی ہی رہے گی لیکن آج   میں ایک سماجی مسئلہ کو زیر بحث لاتا ہوں شاید میری اس کاوش سے کسی حد تک  یہ معاشرتی برائی ختم ہو سکے۔


Pakistani hijab girl diriving, social evils of pakistan کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں شہر کے ایک بڑے چوراہے پر ٹریفک سگنل کے کھلنے کا انتظار کر رہا تھا میرے پیچھے ایک گاڑی آکر رک گئی گاڑی ایک خاتون ڈرائیو کر رہی تھیں جس   نے حجاب کر رکھا تھا . میرے برابر ہی موٹرسائیکل پر دو نوجوان بھی کھڑے تھے . ایک نے پیچھے مڑ کر خاتون کو دیکھا اس کے بعد اس نے اپنے آگے والے کو آہستہ سے کچھ کہا وہ بھی پیچھے کو گردن گھما کر دیکھنے لگا اور پھر دونوں آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے مسکرانے لگے ان کی نظروں کے تعاقب میں اردگرد موجود کچھ اور مرد حضرات بھی خاتون کو گہری نظروں سے گھورنے لگے . میری نظر اس خاتون کے چہرے کی جانب اٹھی تو میں نے واضح طور پر عورت کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ اور آنکھوں میں شدید کرب کی پرچھائیاں دیکھی .خود میری کیفیت یہ تھی کہ مجھے لگ رہا تھا جیسے کسی شرم حیا والی عورت کو بیچ بازار بے پردہ کر دیا گیا ہو . میری قوم کے سپوت کسی ضروری کام کی خاطر گھر سے نکلنے والی ایک شریف اور باپردہ خاتون کو نظروں ہی نظروں میں کچا چبا جانے کے انداز میں دیکھ رہے تھے . یہ واقعہ چند سیکنڈوں کا تھا مجھے لگا ان چند سیکنڈوں میں میری قوم کی تمام بہنوں بیٹیوں کے سروں سے میری قوم کے بیٹوں نے شرم و حیا کی چادر نوچ کر پھینک دی ہو . مجھے خرابی کی سمجھ نہیں آ رہی تھی خرابی اس خاتون کے گھر سے نکلنے میں تھی ؟ خرابی ایک عورت کے ڈرائیو کرنے میں تھی ؟ یا خرابی ہم سب کے ڈی این اے میں ہے جو شرم و حیا سے محروم ہوچکا ہے۔
مکمل تحریر >>