2014 نومبر 6

جہالت اور لا قانونیت

جب انسانی معاشرہ ارتقائی مراحل میں تها تو کسی قسم کا قانون، ضابطہ اور اصول موجود نہ تها اسلئے ہر طرف من مانی کی سی فضا تهی. شعور تو دور کی بات لوگ اس لفظ سے بهی نا آ شنا تهے. غلط کو درست اور درست کو غلط سمجھا جاتا تها۔ مگر مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ ذہنی بالیدگی ہوئی. انسان شعور کی منازل طے کرنے لگا. معاشرے میں استحکام اور توازن قائم کرنے کے لئے اصول اور قوانین وضع کئے گئے. انسانیت نے ان اصولوں اور قوانین کو زندگی کا حصہ بنا لیا۔

کی تمیز مقرر کرد گئی اور پرامن بقائے باہمی کے لئے ایک دوسرے کا احترام کرنے لگے۔ مگر شومئ قسمت ہمارے معاشرے میں آج بهی جنگل کا قانون نافذ ہے اور جهالت کوٹ کوٹ کر بهری ہے. جو ہمارے زوال کی سب بڑی وجہ ہے۔ کل کا واقعہ بهی ہماری جهالت اور لاقانونیت کا ثبوت ہے.
قانون کا تقاضا ہے کہ ملزم کو جرم ثابت ہونے سے پہلے مجرم نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی ماورائے عدالت سزا دی جاسکتی ہے.
مگر مسیحی میاں بیوی کو بهٹی میں پھینک کر زندہ جلا دیا گیا اسلئے کہ ان پر یہ الزام تها انہوں نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی۔ چاہئے تو یہ تها کہ عدالتوں کا رخ کیا جاتا یا پهر عدالتوں کو بهی جلا دیا جاتا.
میرے نزدیک جنگل کا قانون نافذ کردیا جائے. یعنی نہ تو کوئی قانون نہ ہی کوئی ضابطہ. سب اپنی مرضی کریں. قاتل کو خود قتل کریں، چور کے ہاتھ خود کاٹیں.گستاخ مذہب کو بهی خود پهانسی دیں. کسی سے عدل و انصاف کی توقع نہ رکهیں.اور براہ مہربانی پرامن بقائے باہمی اور ترقی یافتہ پاکستان کے حصول کا خواب، خواب ہی رہنے دیں۔۔۔۔۔۔.
ماورائے عدالت مارے جانے والے عیسائی جوڑے کی تصویر اور جلنے کے بعد بچ جانے والی ہڈیاں ہیں۔۔

 

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔