جولائی 29, 2014

کیسے کہوں عید مبارک ۔۔۔۔ !


usman aziz column,

   غزہ ،لہولہو!!!!!

اک باراور یثرب سے فلسطین میں آ

دیکھ رہی ہے مسجد اقصی راستہ تیرا



معمول کا دن تھا، سحر ہونے کو تھی، سورج کی کرنیں ہر طرف اجالا کر نے میں مصروف تھی، رات کی تاریکی صبح کے اجالے میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔یکا یک آہ وبکا شروع ہو گئی کو ئی ادھر بھاگا ، کوئی ادھر ، کیا ہوا؟ یہ شور کیسا ؟ ہر طرف آہ وبکا کیوں ہے؟ جب زندگی پوری طرح بیدار ہوئی تو پتہ چلا غزہ پر اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر حملہ کر دیا۔جب زندگی بیدار ہوتی ہے تب درندوں نے زندگی کو سلانے کی کوشس شروع کر دی۔


blood in gaza, street of gaza, khoon ke holi غزہ ایک مرتبہ پھر تاریخ کی بدترین جارحیت کا شکار ہے۔ تین یہودی لڑکوں کے مبینہ اغوا اور قتل کو اسرائیل نے حملے کا بہانہ بنایا۔ ان یہودی لڑکوں کے قتل کے جواب میں ایک فلسطینی نوعمر لڑکے کو اسرائیلی غنڈوں نے زندہ جلا دیا۔لیکن اس کے باوجود دہشت گرد اور غاصب اسرائیل نے پھر ایک بار غزہ کے بے گناہ اور محصور مسلمانوں کو اپنی بربریت اور سفاکیت کا نشانہ بنا دیا اور اس بار اسرائیلی دہشت گردی اس حد تک شدید ہے کہ مظلوم فلسطینی روزہ دار نہ سحری کھا سکے اور نہ انہیں افطار میسر ہے، بالکل اذان صبح سے پہلے یعنی سحری کے موقع پر ہی اسرائیلی بمباری سے کئی گھرانے اجڑ گئے اور اسرائیل اس حد تک قومی تعصب اور عداوت میں گھر گیا ہے کہ کمسن بچوں اور خواتین پر براہ راست حملے کرنا بھی اس کی نظر میں جنگی جرم شمار نہیں ہوتا ہے۔
 
انبیاءکی سرزمین فلسطین ایک بار پھر لہو لہان ہو گئی اور غزہ ایک خوفناک جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ایک ایسے وقت    میں جب خطۂ عرب انقلاب کی آگ میں جھلس رہا ہے اور دیگر بہت سے مسائل    منہ کھولے کھڑے ہیں،اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر بمباری شروع کر دی  اور  اپنی سفاکیت دنیا پر عیاں کر دی ہے۔
kid killing, children killing in gaza, israel killing children
گزشتہ چند د نوں کے دوران فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جس بڑے پیمانے پر فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور جس طرح ان کے گھروں، املاک اور جائیدادوں کو میزائل اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اور ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ آگیا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے لیے ہی نہیں پوری دنیا میں امن و امان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی بھی ہے۔ خطے کی تازہ صورت حال کے لیے ہم سب کو معلوم ہے کہ پوری طرح اسرائیل ذمہ دار ہے۔

 آج پھر سے فلسطین جا بجا رس رہا ہے ، سرخی ہے ، گرد ہے ، دہشت ہے ، آہ و بکا ہے ، ہم بچوں کو افطار کراتے ہیں ، وہ بچوں کو گود میں لیے بھاگتے پھرتے ہیں ، ہمارے بچے ہماری آغوش میں سکون ڈھونڈتے ہیں ، ان کے بچے اپنے بڑوں کو جاۓ پناہ ڈھونڈتے دیکھتے ہیں ، فرق ہے ، بہت فرق ہے ، ادھر معمول کا فرق ہے اودھر غضب کا فرق ہے ، فرق ہے ، بہت فرق ہے لیکن بلاخر تضاد ہے ، یہ فرق جب نیتوں پر پرکھا جاتا ہے تو تضاد ہی دیکھتا ہے ، کل بھی مظاہرے تھے ، آج بھی پیچ و تاب اور اضطراب ہے ، اس کے سوا اختیار کوئی نہیں ، اس کے سوا ہماری اوقات کوئی نہیں ، سارا سال فلسطین یاد نہیں آتا ، بیچارے فلسطینیوں کو اس ہی وقت ہمارے ترانے سننے کو ملتے ہیں ، جب اسرائیلی دہشت ان کو تاک تاک کر مار رہی ہوتی ہے ، عجیب محبت ہے ، انوکھی حب ہے ، نرالا التفات ہے ، لٹ جاؤ ، برباد ہو جاؤ ، زخموں سے چور ، ٹوٹ پھوٹ جاؤ ، پھر دیکھنا میں تمہارے قصیدے کتنے پڑھوں گا ، رو رو کر بین کروں گا ، سینہ کوبی کر کر کےچھاتی لال کروں گا ، چیخ چیخ کر آسمان سر اٹھا لوں گا ، جلسہ جلوس زمین اودھم مچا دوں گا ، بس شرط اتنی ہے ، تم جب برباد ہو چکو ، قبریں کھود چکو ، پھر میں لبیک لبیک کہوں گا.      کہاں ہے انسانیت کا دم بھرنے والی تنظیمیں، کہاں ہے امن کے دعویدار مغربی ممالک، کہاں ہے پوری دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا دعوی کرنے والے، کہاں ہے عالم اسلام کی نما ئندہ تنظیمیں، تما م  اسلامی دنیا اسرائیل کے اس ظلم وجبر پر  خاموش کیوں ہے ۔کیا ان کو  ما ووں، بہنوں، بیٹیوں کی آہ وبکا ،سکیاں چیخیں ، التجائیں اور پکار سنائی نہہں دیتی۔کب تک عالمی دنیا مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھے گی اور کب تک غزہ لہولہو رہےگا۔
 
جل جائے گا کھیت تو کس کا م کا پانی۔۔۔۔۔
مل جل کر اس آگ کو بجھا کیوں نہیں دیتے
 
امن کے داعی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی بربادی اس کے مکینوں کی خاموشی میں مضمر ہوتی ہے۔ کتنے ہی ملک ایسے برباد ہوئے جنکے سیاستدانوں، شاعروں ، ادیبوں اور تاریخ سازوں کی حقائق سے چشم پوشی کی عادت ہوتی ہے. ان کی یک جہتی میں بٹوارے کی سازش ہوتی ہے . آپس کی مسلکی ، لسانی رنجشیں اور مفاد پرستی کی انتہا ہوتی ہے۔ یوں وہ اپنی اصل سے دور ہو جاتے ہیں۔ اپنے مقصد سے د ور اور انجام سے بے خبری ان کو اور انکے ملک کو مٹا دیتی ہے۔کتنا کچھ سامنے ہے قوموں کے بربا دہونے کے لیے . مٹ جانے کے لیے. مگر ہم سبق نہیں لیتے، ہم کبھی نہیں سنبھلتے اور اپنی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہیں۔
  ٹیپو سلطان نے کہا تھا''گیڈرکی سو سالہ زندگی سے بہتر شیر کی ایک دن کی زندگی ہے''ضرورت اس امر کی ہے امت مسلمہ اپنا  فعال کردار ادا کرے، اور  عالمی دنیا میں اپنی آواز اور احتجاج کو  موثر بنائے، اور غزہ میں جاری اسرائیل کی سفاکیت، بربریت ، اور ظلم وجبر کی داستاں کو ختم کرانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔
 
 مزید  بہت کچھ ، کئی نسلوں کی کسمپرسی ہے ، کئی سالوں تک کے دھکے ہیں ، اسرائیل کتنے مارے گا ؟ اور ہم خود ایک دوسرے سے الجھ کر کتنے مریں گے ، خوب معلوم ہے ،  آج جمعتہ الوداع ہے ، دعائیں ہوں گی ، رقت ہو گی ، منگتے جھولی پھیلا پھیلا دشمنوں کی بربادی کی دعا کریں گے ، لیکن ؟ کاش ، کوئی اس امت کے کان میں اتنا کہہ دے ، ترقی دشمن کے مرنے سے نہیں ، خود جی لینے کی امنگ ، پا لینے کے ہنر سے ملتی ہے ، خدا میرے گھر ، میرے وطن ، میری زمین کو امن انعام دے ، آمین
 
 

 
 

4 تبصرے:

گمنام نے لکھا ہے کہ

:( :'(

mashal imaan نے لکھا ہے کہ

بہت اچھا لکھا ھے ۔۔ اللہ آپ کو جزا دے۔۔

خاور کھوکھر نے لکھا ہے کہ

جاری رکھیں ،۔ خوب لکھا ہے ، باقی مشق سے بے ساختگی بھی آ جائے گی ۔

Usman Aziz نے لکھا ہے کہ

بہت شکر یہ آپ لوگوں کی محبتوں کا اسی طرح سے حوصلہ افزائی فرماتے رہے تا کہ میں راہنمائی حاصل کرتا رہوں

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔