2014 جولائی 10

( نکتہ چینی اور طاہر القادری )

usman aziz
 
  



crticism by usman aziz ایک دفعہ کا ذکر ہے  ایک مصور نے ایک خوبصورت سی تصویر بنائی اور اس کو شہر کے مرکزی چوک پر رکھ دیا اور اس کے اوپریہ لکھ دیا کے ’’اگر اس  تصویر میں کو ئی غلطی ہو تو اس کے نشان دہی کر دی جائے ‘‘صبح  جا کر وہ اپنی تصویر کو دیکھتا ہے تو حیران اور  پریشان ہو جاتا ہے کوئی ایسی جگہ   تصویر میں، ایسی نہیں ہوتی جہاں پر نشان نہ لگا ہوا ہو ۔وہ اسی طرح کی حالت دیکھتا ہےاپنے اس فن پارے کی جس کو اس نے  بڑی مخنت سے تخلیق کیا ہوتا ہےتو بہت  افسردہ ہوتا ہے   اسی پریشانی کی حالت میں اور دلبرداشتہ ہو کر، ٹوٹے ہوئے دل سے تھکے ہارے ہوئے قدموں کے ساتھ واپس اپنی منزل کی  طرف جا   رہا  ہوتا ہے تو ایک بابا جی اس کو  رستے میں دیکھتے  ہیں اور پو چھتے ہیں اے  ا بن آدم کیا بات ہے  بہت پریشان نظرآ رہے ہوں اگر مجھے اپنا ہمدرد سمجھو تو اپنے دل کی بات  کہہ دو اس بات پر مصورنے  پورا ماجرا بتا دیا  تو بابا جی ہسنے لگے اور کہا کے اے آدم کے  بیٹے اس طرح کی  دوبارہ ایک تصویر بنا ؤ اور دوبارہ اس چوک  پر رکھ دو اور اس  پر یہ لکھ دو کے ’’اگراس میں کوئی  غلطی ہو تو اس کو ٹھیک کر د یں ‘‘جب  مصور اگلے دن جاتا ہے اور دیکھتا ہے اپنی تصویر کو حیران رہ جاتا ہے تصویر کے اپر ایک بھی نشان نہیں تھا وہ بابا جی کے پاس جاتا ہے اور پوچھتا ہے یہ ماجرا کیا ہے بابا جی کہتے ہیں اے ا بن آدم لوگ تنقید آسانی سے کر لاتے ہیں لیکن اصلاح کرنا ان کے لیے سب سے مشکل کام ہوتا ہے    ۔تنقید کرنا دنیا کا سب سے  آسان کام ہےلیکن غلطیوں کو درست ہر کوئی نہیں کر سکتا۔                                                                                                                              
میں جب اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو  مجھے ہر طرف نکتہ چینی ہی نظر  اتی ہے .  ادھر والےادھر والوں پر  ادھر والے ادھر والون پر، مشرق والے مغرپ والوںپر،مغرپ والے مش ق والوں پر، افسران ملازمیں پر، ملازمیں افسران پر،طالبعلم اساتذہ پراور زساتذہ طالبعلمون پر ، الغرض زندکی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں رہنے والے ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہ کر رہے ہو۔اگر میں مللکی سیاست کی بات کرون تو حکمران اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لینے ہیں اور اپوزیشن والے حکمرانون کو ، ایک تماشہ سا لگا ہوا یے ، عوام پاکستان کو بے وقوف بنا یا جا رہا ہے ایک دوسرے کے ساتھ باریاں طے کر رکھی ہے پہلے میں بے وقوف بناتا ہوں پھر آپ بنانا                                                                                                                    
ایسا  کیوںہو رہا ہےمین سوچتا ہوں تو مجھے بچپن کی سنی ہویی کہانی یاد آتی کیوں کہ تنقید کرناآسان اور اصلاح کرنا  مشکل ہے۔پھرمیں یہ سوچتا ہوں کیا آج کل کے زمانے میں ہر ایک تنقید  یا نکتہ چینی ہی کررہایے یاکوئی اصلاح بھی کر رہا بچپنن کی اس کہانی کے بابا جی کی طرح تو مجھے مملکت خداد پاکستان میں ایک ہی بابا جی نظر آتے ہیں جو نتقید کا شکار ہیں ، ملک پاکستان مین پسنے والا ہر شخص ان پر نکتہ چینی کرنا ثواپ کا کام سمجھتاہے وہ بابا جی مجھے طاہر القادری کی صورت میں نظر آرہے ہییں کیوں کہ وہ واحد شخصیت ہے جو عوام پاکستان کے مسائل کو نہ صرف اجاگر کر رہی یے بلکہ اس کا حل بھی پیش کر رہی ہے ان کے علاوہ تو ہر کویئ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہاہے کوئی حلقوں کی سیاست سے با ہر نہں آرہا تو کوئی میثاق جمہوریت کے نام پر عوام پاکستان کے ساتھ مذاق کر رہا ہے ۔                                                                                                                                                                   
یہ میر ی ذاتی رائے ہے آپ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا آج کے دور کا بابا جی کون ہے۔  انتظار ہی کیا جا سکتا ہے تب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                                                                                                                          ۔


           

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔